وَكُلُّ سَجْدَةٍ وَجَبَتْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَسْجُدْهَا فِيهَا لَمْ تُقْضَ خَارِجَ الصَّلَاةِ لِأَنَّهَا صَلَاتِيَّةٌ وَلَهَا مَزِيَّةُ الصَّلَاةِ فَلَا تَتَأَدَّى بِالنَّاقِصِ، وَمَنْ تَلَا سَجْدَةً فَلَمْ يَسْجُدْهَا حَتَّى دَخَلَ فِي صَلَاةٍ فَأَعَادَهَا وَسَجَدَ أَجْزَأَتْهُ السَّجْدَةُ عَنِ التِّلَاوَتَيْنِ۔ وَكُلُّ سَجْدَةٍ وَجَبَتْ فِي الصَّلَاةِ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا، یہاں آپ کو مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ وہ سجدہ جو نماز کے اندر واجب ہو، یعنی نماز کے اندر کوئی شخص کیا کرتا ہے؟ آیت سجدہ کی تلاوت کرتا ہے تو وہ نماز ہی کے اندر ادا ہو سکتا ہے، نماز کے بعد اس کی قضا نہیں ہو سکتی۔ اس نے نماز کے اندر وہ سجدہ کر لیا تو اچھی بات ہے، اگر نماز میں اس نے ادا نہیں کیا، نماز کے بعد پھر وہ اس کی قضا نہیں کر سکتا بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ معنی ہے: وَكُلُّ سَجْدَةٍ وَجَبَتْ فِي الصَّلَاةِ اور ہر ایسا سجدہ جو نماز میں واجب ہوا ہو فَلَمْ يَسْجُدْهَا تو اس نے وہ سجدہ نہیں کیا فِيهَا اس نماز کے اندر لَمْ تُقْضَ خَارِجَ الصَّلَاةِ تو اس کی قضا نہیں کی جائے گی نماز سے باہر، یعنی نماز کے بعد۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کیوں نہیں قضا بعد میں کی جا سکتی اس سجدے کی جو نماز میں بھول گیا، رہ گیا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهَا صَلَاتِيَّةٌ اس لیے کیونکہ وہ نماز والا سجدہ تھا وَلَهَا مَزِيَّةُ الصَّلَاةِ، مزیت کہتے ہیں فضیلت کو، فضیلت، وَلَهَا مَزِيَّةُ الصَّلَاةِ اور اس کو نماز کی فضیلت حاصل تھی، نماز کی فضیلت حاصل تھی فَلَا تَتَأَدَّى بِالنَّاقِصِ تو وہ ناقص سجدے کے ساتھ ادا نہیں ہو گا۔ بھئی دیکھیے، نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی ہے تو سجدہ واجب ہوا اور یہ سجدہ بھی کون سا ہے؟ نماز والا ہے، اس کو نماز کی فضیلت حاصل ہے۔ تو اب جو سجدہ کرے گا نماز کے اندر تو وہ جیسا واجب ہوا ہے اسی طرح کا کامل سجدہ ادا کر رہا ہے۔ اور نماز کے بعد اب اس کو ادا کرنا چاہتا ہے تو اب تو نماز نہیں ہے، تو اب یہ اس طرح کا کامل ادا نہیں بلکہ اب ناقص ادا ہو گا اور حالانکہ ضابطہ ہے کہ جو چیز کامل واجب ہوئی ہو اس کے لیے ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل ہی چاہیے، اس لیے ادا نہیں ہو گا بھئی۔ تو وہ اس کے ذمے رہ گیا بھئی۔ وَمَنْ تَلَا سَجْدَةً فَلَمْ يَسْجُدْهَا حَتَّى دَخَلَ فِي صَلَاةٍ فَأَعَادَهَا وَسَجَدَ أَجْزَأَتْهُ السَّجْدَةُ عَنِ التِّلَاوَتَيْنِ، صورت مسئلہ یہ: ایک شخص نے آیت سجدہ تلاوت کی، آیت سجدہ نماز سے باہر، آیت سجدہ تلاوت کی اور اس پر سجدہ واجب ہو گیا لیکن اس نے سجدہ نہیں کیا ابھی، یہاں تک کہ اس نے نماز شروع کر دی اور نماز کے اندر پھر اسی آیت سجدہ کی اس نے تلاوت کی اور پھر سجدہ بھی کر لیا، تو کہتے ہیں یہ سجدہ دونوں تلاوتوں سے اس کو کافی ہو جائے گا بھئی، یہ ان دونوں سجدوں کے قائم مقام ہو گیا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ تَلَا سَجْدَةً اور جس نے سجدے کی تلاوت کی، یعنی آیت سجدہ کی تلاوت کی، اور جس نے آیت سجدہ کی تلاوت کی فَلَمْ يَسْجُدْهَا پھر سجدہ نہیں کیا حَتَّى دَخَلَ فِي صَلَاةٍ یہاں تک کہ وہ نماز میں داخل ہو گیا فَأَعَادَهَا تو اس نے اس کا اعادہ کیا، اس آیت سجدہ کا اعادہ کیا، پھر اس کو پڑھا وَسَجَدَ اور اب سجدہ کر لیا أَجْزَأَتْهُ السَّجْدَةُ عَنِ التِّلَاوَتَيْنِ تو یہ سجدہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا دونوں تلاوتوں سے۔ بھئی، یہ ایک سجدہ دو تلاوتوں سے کیوں کافی ہو گیا؟ وجہ ذکر کریں گے، کیونکہ دوسرا سجدہ جو ہے وہ قوی ہے۔ وہ کیا ہے؟ قوی ہے، کیونکہ نماز میں ہے وہ واجب ہوا اور اس کو نماز کی فضیلت حاصل ہے، تو جب وہ قوی ہوا تو ما قبل کا جو ادنیٰ تھا، ضعیف تھا، اس سجدے کو اپنے ضمن میں لے لے گا، اپنے تابع بنا لے گا بھئی، وہ اسی کے اندر داخل ہو جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ الثَّانِيَةَ أَقْوَى اس لیے کیونکہ دوسرا سجدہ جو ہے وہ زیادہ قوی ہے لِكَوْنِهَا صَلَاتِيَّةً اس لیے کیونکہ یہ نماز والا ہے فَاسْتَتْبَعَتِ الْأُولَى، استتباع کے معنی ہیں تابع بنانا، فَاسْتَتْبَعَتِ الْأُولَى تو یہ دوسرا سجدہ جو ہے یہ تابع بنا لے گا الْأُولَى کس کو؟ پہلے سجدے کو، وہ اس میں آ جائے گا۔ وَفِي النَّوَادِرِ، یہ تو تھا ظاہر روایت کے مطابق کہ دوسرا سجدہ ہی پہلے سجدے کو اپنے تابع بنا لے گا، وہ اسی سے ادا ہو جائے گا۔ وَفِي النَّوَادِرِ اور نوادر میں ہے: يَسْجُدُ أُخْرَى بَعْدَ الْفَرَاغِ کہ دوسرا سجدہ کرے گا نماز سے فارغ ہونے کے بعد۔ یعنی یہ نماز میں جو ادا کیا یہ یہی والا سجدہ ہے، وہ پہلے والا ابھی بھی اس کے ذمے باقی ہے، کیا کرے گا؟ نماز کے بعد اس کو پھر ادا کرے گا، یہ نوادر کی روایت ہے۔ وجہ کیا؟ اس کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ لِلْأُولَى قُوَّةَ السَّبْقِ کہتے ہیں کیونکہ اگر نماز والے سجدے کو قوت حاصل ہے، وہ زیادہ قوی ہے، تو پہلے سجدے کو بھی قوت حاصل ہے۔ نماز والے کو کیا قوت حاصل ہے؟ وہ نماز والا ہے، نماز کی فضیلت۔ اور پہلے سجدہ کو کہتے ہیں کیا قوت حاصل ہے؟ کہتے ہیں بھئی وہ مقدم تھا، مقدم ہونے کی قوت اس کو حاصل ہے اس کو۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ لِلْأُولَى قُوَّةَ السَّبْقِ اس لیے کیونکہ پہلا جو ہے اس کو مقدم ہونے کی قوت حاصل ہے فَاسْتَوَتَا تو دونوں برابر ہو گئے۔ تو اور چیز اپنے سے ادنیٰ کو تو شامل ہوتی ہے، اپنے برابر والے کو شامل نہیں، لہٰذا نماز والے کو اگر قوت ہے تو دوسرے کو بھی قوت حاصل ہے، لہٰذا وہ اس کے تابع نہیں ہو گا، یہ پھر ادا کرنا پڑے گا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ فَاسْتَوَتَا تو یہ دونوں سجدے برابر ہو گئے۔ قُلْنَا، صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں، ظاہر روایت کو ترجیح دیتے ہوئے نوادر کی روایت کا اور اس کی دلیل کا جواب دے رہے ہیں، تو صاحبِ قُلْنَا جواب میں فرماتے ہیں، کہتے ہیں ہم کہتے ہیں: لِلثَّانِيَةِ قُوَّةُ اتِّصَالِ الْمَقْصُودِ کہ آپ نے کیا کہا؟ نماز والے سجدے کو اگر نماز کی قوت حاصل ہے تو پہلے والے کو اس کو مقدم ہونے کی قوت حاصل ہے، تو دونوں کیا ہو گئے؟ برابر ہو گئے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں نہیں، دوسرے کو ایک اور قوت بھی تو حاصل ہے، لہٰذا اس کی قوت پھر زائد ہو گئی، یہ زیادہ قوی ہو گیا۔ دوسری قوت اس کو کیا حاصل؟ کہتے ہیں یہ مقصود کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ یہ دوسرا سجدہ کس کے ساتھ ملا ہوا ہے؟ مقصود کے ساتھ ملا ہوا ہے، لہٰذا اس کو ایک اور قوت حاصل ہو گئی، یہ قوی ہوا اور پہلے والے کی قوت اس سے کم ہوئی، وہ اس سے ضعیف ہوا، تو یہ قوی اس ضعیف کو اپنے ضمن میں لے لے گا، اس کو اپنا تابع بنا دے گا۔ یہ معنی ہے: قُلْنَا ہم کہتے ہیں لِلثَّانِيَةِ قُوَّةُ اتِّصَالِ الْمَقْصُودِ کہ دوسرے سجدے کو جو ہے مقصود کے ساتھ ملے ہونے کی قوت حاصل ہے، دوسرے سجدے کو نماز کی بھی فضیلت اور مقصود کے ساتھ ملے ہونے کی بھی قوت۔ بھئی، مقصود سے ملے ہونے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، ایک ہے وجوبِ سجدہ، آیت سجدہ تلاوت کرے گا تو کیا آئے گا؟ وجوبِ سجدہ، اور وجوبِ سجدہ سے مقصود کیا ہے؟ ادائے سجدہ۔ وجوبِ سجدہ سے مقصود کیا ہے؟ ادائے سجدہ۔ تو یہاں پر وجوبِ سجدہ ملا ہوا ہے اپنے مقصود یعنی ادائے سجدہ کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس کو قوت حاصل ہے، جبکہ پہلے کے اندر وجوب آ چکا ہے لیکن ابھی تک ادا نہیں، تو اس کو وہ قوت حاصل نہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: قُلْنَا ہم کہتے ہیں لِلثَّانِيَةِ قُوَّةُ اتِّصَالِ الْمَقْصُودِ کہ دوسرے سجدے کو جو ہے مقصود کے ساتھ ملے ہونے کی قوت حاصل ہے فَتَرَجَّحَتْ بِهَا تو یہ ترجیح پا جائے گا اس کے مقابلے میں۔ وَإِنْ تَلَاهَا فَسَجَدَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَتَلَاهَا سَجَدَ لَهَا۔ وَإِنْ تَلَاهَا فَسَجَدَ، اب دوسری صورت، پہلے کیا صورت تھی؟ آیت سجدہ تلاوت کی تھی نماز سے پہلے اور سجدہ نہیں کیا تھا اور پھر نماز میں وہی آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ کر لیا تو دونوں سجدے اسی ایک سجدے سے ادا ہو گئے۔ اب دوسری صورت کہ پہلے نماز سے پہلے آیت سجدہ تلاوت کی اور پھر سجدہ بھی کر لیا، اب پھر نماز شروع کر دی، پھر وہی آیت سجدہ دوبارہ پڑھی، تو کیا وہی پہلا سجدہ کافی ہو جائے گا یا دوبارہ پھر سجدہ کرنا پڑے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ دوبارہ پھر سجدہ کرنا پڑے گا، دوبارہ پھر کرنا پڑے گا۔ اس لیے کیونکہ اس سجدے کا وجوب کس وجہ سے تھا؟ آیت سجدہ اس نے تلاوت کی تھی اور وہ پھر اس نے سجدہ بھی کر لیا، اب آیت سجدہ تلاوت کی ہے تو اب وجوب آیا ہے، تو اب اس کو سجدہ ادا کرنا پڑے گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ والا سجدہ بھی اس پہلے کے ضمن میں ادا ہو گیا تو یہ تو سجدہ واجب ہوا ہے جب اب اس نے کس کی تلاوت کی ہے؟ تو سبب اب پایا گیا اور حکم اس سے پہلے ہی پایا گیا، یہ تو درست نہیں ہے بھئی۔ ہمیشہ سبب پہلے ہوتا ہے، حکم اس کے بعد، نہ یہ کہ حکم پہلے ہو اور سبب اس کے بعد۔ جیسے ظہر کی نماز ہے، اس کا سبب کیا ہے؟ ظہر کا وقت ہے۔ ظہر کا وقت آئے گا، سبب پایا گیا، اور سبب پایا گیا تو حکم آ گیا، کیا حکم؟ ظہر کی نماز آپ پر واجب ہو گئی، اس سے پہلے واجب ہی نہیں۔ تو لہٰذا اگر آپ ظہر کی نماز ظہر کے وقت سے پہلے ہی ادا کرتے ہیں تو یہ تو اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ کہ حکم پہلے پایا جائے گا، یہ کہنا پڑے گا کہ حکم پہلے پایا گیا اور سبب بعد میں، حالانکہ سبب پہلے ہوتا ہے اور حکم بعد میں۔ تو لہٰذا یہ دوسرا سجدہ اس پہلے کے ضمن میں ادا نہیں ہو گا بلکہ وجوب کا حکم اب آئے گا جب تلاوت کرے گا اور کرنا پڑے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ تَلَاهَا اور اگر آیت سجدہ کی تلاوت کی فَسَجَدَ پھر سجدہ کر لیا نماز سے پہلے ہی ثُمَّ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ پھر نماز میں داخل ہوا فَتَلَاهَا پھر اسی آیت سجدہ کی تلاوت کی سَجَدَ لَهَا تو پھر کیا کرے گا اس کے لیے؟ سجدہ کرے گا لِأَنَّ الثَّانِيَةَ هِيَ الْمُسْتَتْبِعَةُ اس لیے کیونکہ دوسرا سجدہ ہی تابع بنانے والا ہے، پہلا سجدہ تابع نہیں بنا سکتا بلکہ تابع بنانے والا کون سا ہے؟ دوسرا ہی ہے، وہی بنا سکتا ہے۔ وَلَا وَجْهَ إِلَى إِلْحَاقِهَا بِالْأُولَى اور کوئی وجہ نہیں ہے اس کو پہلے سجدے کے ساتھ ملانے کی لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى سَبْقِ الْحُكْمِ عَلَى السَّبَبِ اس لیے کیونکہ یہ پہنچا دے گا حکم کے مقدم ہونے کو عَلَى السَّبَبِ کس پر؟ سبب پر، کہ سبب پر حکم مقدم ہو جائے گا اور یہ درست نہیں ہے بھئی۔ وَمَنْ كَرَّرَ تِلَاوَةَ سَجْدَةٍ وَاحِدَةٍ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ أَجْزَأَتْهُ سَجْدَةٌ وَاحِدَةٌ، بھئی، اب یہاں سے آپ کو یہ مسئلہ بتلائیں گے کہ ایک ہی مجلس کے اندر کوئی شخص کسی ایک آیت سجدہ کو جتنی دفعہ بھی پڑھ لے تو ایک ہی سجدہ آئے گا، ایک ہی سجدہ ادا کرے گا تو وہ سب ادا ہو گئے اسی کے ضمن میں، تو ایک ہی سجدہ آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن شرط کیا ہے؟ مجلس ایک ہونی چاہیے، مجلس ایک ہونی چاہیے۔ اور اگر مجلس بدلتی ہے تو پھر دوسری بار تلاوت سے دوسرا سجدہ آئے گا۔ چنانچہ ایک شخص ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا، اس نے آیت سجدہ تلاوت کی اور پھر سجدہ بھی کر لیا، اور یا سجدہ نہیں کیا، بہرحال آیت سجدہ تلاوت کر لی، پھر اٹھ کر گیا کسی کام سے، پھر واپس آیا اسی جگہ پر، اس نے دوبارہ وہی آیت سجدہ تلاوت کی تو کتنے سجدے آئیں گے؟ دو سجدے آئیں گے کیونکہ مجلس بدلی ہے، یہ درمیان میں اٹھ کر گیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ كَرَّرَ تِلَاوَةَ سَجْدَةٍ وَاحِدَةٍ اور جس نے تکرار کیا کس چیز کا؟ ایک سجدے کی تلاوت کا، یعنی ایک آیت سجدہ کی تلاوت کا اس نے تکرار کیا، اس کو بار بار پڑھا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ ایک ہی مجلس میں أَجْزَأَتْهُ سَجْدَةٌ وَاحِدَةٌ تو کافی ہو جائے گا اس کے لیے ایک ہی سجدہ۔ فَإِنْ قَرَأَهَا فِي مَجْلِسِهِ پس اگر اس نے آیت سجدہ پڑھی اپنی مجلس میں فَسَجَدَهَا پھر اس کا سجدہ کر لیا ثُمَّ ذَهَبَ وَرَجَعَ پھر وہ گیا اور واپس آیا فَقَرَأَهَا پھر اس آیت کو پڑھا سَجَدَهَا ثَانِيَةً تو دوبارہ دوسرا اس کا سجدہ کرے گا۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ سَجَدَ لِلْأُولَى اور اگر ابھی تک اس نے پہلے کے لیے سجدہ نہیں کیا فَعَلَيْهِ سَجْدَتَانِ تو بھی اس پر دو سجدے ہیں کیونکہ مجلس بدلی ہے۔ وَالْأَصْلُ، آگے صاحبِ ہدایہ ضابطہ بتلا رہے ہیں: وَالْأَصْلُ اور ضابطہ یہ ہے أَنَّ مَبْنَى السَّجْدَةِ عَلَى التَّدَاخُلِ کہ سجدوں کی بنیاد تداخل پر ہے۔ کس پر ہے؟ تداخل۔ تداخل کا معنی باہم ایک دوسرے کے اندر داخل ہو جانا، تو یہاں پر بھی وہ جو سجدے ہوں گے جو واجب ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کے اندر داخل ہوں گے، ایک ہی سجدہ آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ سجدوں کی بنیاد جو ہے عَلَى التَّدَاخُلِ تداخل پر ہے دَفْعًا لِلْحَرَجِ حرج کو دور کرنے کے لیے۔ اگر یہ کہا جائے جتنی دفعہ آیت کو پڑھا ہے اتنے ہی سجدے کرنا پڑیں گے تو پھر تو انسان حرج میں پڑ جائے گا، کیونکہ انسان محتاج ہے خصوصاً قرآن کے لیے تو، تعلیم و تعلم کے لیے بھئی۔ کوئی سکھانے والا ہے، استاد ہے، اور کوئی پڑھنے والا ہے، اسے یاد کرنے والا ہے، اب پڑھاتے ہوئے اور سیکھتے ہوئے تو کتنی دفعہ ہی تکرار کروانا پڑے گا استاد کو اور شاگرد کو کتنی دفعہ تکرار کرنا پڑتا ہے، اور پھر خصوصاً جو حفظ کر رہا ہے اس کو تو بہت زیادہ مرتبہ تکرار کرنا پڑتا ہے۔ تو اگر ہر مرتبہ اس پر نئے سجدہ واجب ہونے کا حکم لگایا جائے تو اس میں وہ تنگی میں اور مشکل میں پڑ جائے گا۔ تو حرج کو دور کرنے کے لیے ایک ہی سجدہ واجب ہو گا۔ تو یہ معنی ہے: وَالْأَصْلُ أَنَّ مَبْنَى السَّجْدَةِ عَلَى التَّدَاخُلِ دَفْعًا لِلْحَرَجِ اور ضابطہ یہ ہے کہ سجدوں کی بنیاد جو ہے تداخل پر ہے حرج کو دور کرنے کے لیے وَهُوَ تَدَاخُلٌ فِي السَّبَبِ دُونَ الْحُكْمِ اور وہ سبب کے اندر تداخل ہے نہ کہ حکم میں وَهُوَ أَلْيَقُ بِالْعِبَادَاتِ اور یہ عبادتوں کے زیادہ لائق ہے وَالثَّانِي بِالْعُقُوبَاتِ اور دوسرا سزاؤں کے زیادہ لائق ہے۔ توجہ سے بھئی، مشکل بات کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی۔ بھئی دیکھیے، تداخل کا کیا معنی؟ چیزوں کا باہم ایک دوسرے کے اندر داخل ہو جانا۔ اب یہاں دو چیزیں ہیں، دو چیزیں ہیں: ایک ہے سبب اور ایک ہے اس کا حکم۔ سبب کیا ہے وجوبِ سجدہ کا؟ کہ وہ جو تلاوت کی ہے اس نے آیت سجدہ کی، وہ سبب ہے۔ اور حکم کیا ہے؟ وجوبِ سجدہ، سجدہ اس پر واجب ہو جائے گا۔ آیت سجدہ پڑھے گا تو کیا واجب ہو جائے گا؟ سجدہ واجب ہو جائے گا۔ تو آیت سجدہ کا پڑھنا ہوا سبب اور سجدے کا واجب ہونا ہوا حکم۔ تو ضابطہ انہوں نے بتلا دیا کہ سجدے کی بنیاد کس پر ہے؟ تداخل پر ہے۔ اب کس میں تداخل مانا جائے؟ سببوں میں تداخل مانا جائے یا حکم کے اندر تداخل مانا جائے؟ سبب کے اندر تداخل کا معنی یہ کہ اس نے مثلاً دس دفعہ وہ آیت پڑھی ہے تو وہ دس سبب ہوئے لیکن ان کا آپس میں تداخل ہو جائے گا اور کیا شمار کریں گے؟ ایک ہی سبب پایا گیا، جب ایک سبب پایا گیا تو حکم بھی کتنے آئیں گے؟ ایک ہی آئے گا، ایک ہی سجدہ آئے گا۔ دوسری صورت: حکم کے اندر صرف تداخل مانا جائے، سبب میں نہیں۔ دس دفعہ ایک آیت سجدہ کو پڑھا تو سبب تو دس ہی ہیں لیکن آگے حکم ان کا آپس میں کیا ہو گیا؟ تداخل ہوا اور سجدے کتنے آئے؟ ایک ہی سجدہ آیا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ احناف کی باتیں بڑی گہری ہوتی ہیں مولانا۔ تو یہاں ایک صورت یہ ہے کہ سبب کے اندر تداخل مانا جائے، ایک صورت کیا ہے؟ حکم کے اندر تداخل مانا جائے۔ تو کہتے ہیں یہ چونکہ عبادت کا معاملہ ہے اور عبادتوں کی بنیاد احتیاط پر ہے، احناف ہمیشہ کس قول کو اختیار کرتے ہیں؟ جس میں احتیاط زیادہ ہوتی ہے۔ تو احتیاط اس کے اندر ہے کہ یہ عبادت کا معاملہ ہے تو سبب کے اندر تداخل مانو، یعنی یہ دس دفعہ آیت پڑھی لیکن یہ کیا شمار کرو؟ ایک ہی دفعہ پڑھی ہے گویا، اور جب ایک دفعہ پڑھی ہے تو سجدے بھی کتنے واجب؟ ایک ہی واجب۔ اور اس کے بجائے اگر آپ کیا کریں؟ حکم میں تداخل کرتے ہیں تو پھر کہنا پڑے گا دس سبب پائے جا رہے ہیں، کتنے؟ دس سبب پائے جا رہے ہیں لیکن سجدہ وہ ایک ہی کر رہا ہے، تو احتیاط کس میں زیادہ ہے؟ سببوں کو ہی کیا کر دو؟ ایک بنا دو، تو حکم بھی کتنے آئیں گے؟ ایک ہی آئے گا۔ بجائے اس کے کہ یہ کہو سبب تو دس ہیں لیکن حکم ایک، تو دیکھو باقی سارے سبب بغیر حکم کے رہ جائیں گے، باقی سبب کیا ہوں گے؟ بغیر حکم کے رہ جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو احتیاط کس میں زیادہ؟ سببوں کو ایک بنا دو، جب سبب ایک ہو گئے تو حکم خود بخود کیا ہو گا؟ ایک۔ اور سبب زیادہ ہی رکھیں آپ اور حکم ایک بنائیں، اس میں احتیاط نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ احتیاط نہیں۔ تو عبادت کی بنیاد احتیاط پر ہے کہ جب واجب ہو رہی ہے تو اس کو ادا، جتنے سبب ہیں اتنی عبادتیں اس کے مطابق واجب ہوتی ہیں، تو سببوں کو ہی کیا کر دو؟ آپس میں ان کا تداخل اس کو مان لیا جائے۔ تو عبادتوں کے یہ زیادہ مناسب ہے کہ سببوں میں تداخل کیا جائے۔ اور سزاؤں کے اندر مناسب زیادہ یہ ہے کہ حکم کے اندر تداخل کر لو۔ سزاؤں میں کیا مناسب ہے؟ کہ حکم میں تداخل کر لو۔ مثلاً ایک آدمی نے دس چوریاں کی ہیں، اب پکڑا گیا، اب پکڑا گیا، تو دس چوریوں کو ایک نہ بناؤ، چوریاں دس ہی ہیں، سبب دس ہی ہیں لیکن حکم کیا آئے گا آگے؟ ان کا آپس میں حکموں کا تداخل کر دو اور حکم کتنا آیا؟ پچھلی صورت میں سبب ہی ایک بن گیا تھا، اب سبب کتنے ہیں؟ سبب دس ہی ہیں لیکن حکم کیا آیا؟ ایک ہی آیا، حکموں میں تداخل ہوا، سببوں کو اسی طرح رہنے دو۔ اور یہ سزاؤں کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ صورت جو ہے مشیر ہے، اشارہ کرنے والی ہے اللہ کے رحم و کرم کی طرف بھئی، اللہ کے رحم و کرم کی طرف، اللہ کے فضل و انعام کا احسان کا پتہ چلتا ہے، اس کے فضل و کرم کا اندازہ ہوتا ہے کہ دیکھو جرم دس تھے اور سزا کتنی ملی؟ ایک۔ تو اس میں شفقت زیادہ اور رحم زیادہ ہے یا سببوں کو ایک بنا دو؟ ایک چوری ہے تو ایک ہی دفعہ ہاتھ کاٹنا پڑے گا بھئی، ایک ہی سزا ہے۔ تو کس میں فضل و کرم زیادہ؟ جن میں کیا کیا جائے؟ حکم میں تداخل، کہ دیکھو دس جرم تھے لیکن اللہ سزا کتنی دے رہے ہیں صرف؟ ایک سزا دے رہے ہیں، سبب دس کے دس ہیں لیکن حکم ایک ہی آیا، ایک ہی سزا آ گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عبادتوں کا معاملہ احتیاط پر مبنی ہے، لہٰذا وہاں سبب کے اندر تداخل کرو کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے، ورنہ اگر سببوں میں تداخل نہیں کرو گے تو باقی سبب بغیر حکم کے رہ جائیں گے اور احتیاط اس میں ہے کہ کوئی بھی سبب بغیر حکم کے نہ رہے، تو جب آپ نے ان کو ایک بنا دیا تو حکم بھی ایک آئے گا بھئی۔ اور سزاؤں کے میں مناسب کیا ہے، کس کے اندر تداخل کیا جائے؟ حکم میں تداخل کر لو، سبب کے اندر تداخل کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ اللہ کے فضل و کرم کے زیادہ لائق ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ دیکھیے کتاب پر بھئی: وَالْأَصْلُ أَنَّ مَبْنَى السَّجْدَةِ عَلَى التَّدَاخُلِ اور ضابطہ یہ ہے کہ سجدے کی بنیاد جو ہے تداخل پر ہے دَفْعًا لِلْحَرَجِ حرج کو دور کرنے کے لیے وَهُوَ تَدَاخُلٌ فِي السَّبَبِ دُونَ الْحُكْمِ اور وہ سبب کے اندر تداخل ہے نہ کہ حکم میں وَهُوَ أَلْيَقُ بِالْعِبَادَاتِ اور یہ عبادات کے زیادہ لائق ہے، زیادہ مناسب ہے وَالثَّانِي بِالْعُقُوبَاتِ اور دوسرا جو ہے، یعنی حکم کے اندر تداخل، وہ سزاؤں کے زیادہ مناسب ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عبادتوں کی بنیاد احتیاط پر ہے، سزاؤں کی بنیاد معاف کرنے پر ہے، اسی لیے تو آپ پڑھتے ہیں: الْحُدُودُ تُدْرَأُ بِالشُّبُهَاتِ، شبہے کی وجہ سے حد کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے، اس کو ختم کر دیا، یعنی معاف کر دیا جاتا ہے۔ تو اس کی بنیاد اس کو ختم کرنے پر ہے کہ اس کو دور کیا جائے، جس قدر ہو سکے سزا سے کسی انسان کو بچایا جائے بھئی۔ اور اللہ کے رحم و کرم کا ذرا اندازہ لگائیے، انسان حیران رہتا ہے بھئی، اللہ کا فضل و احسان کتنا عظیم ہے بھئی، کتنا عظیم ہے۔ دیکھیے اور باتوں کے لیے دو دو گواہ کافی ہیں لیکن زنا کے معاملے میں اللہ نے چار گواہوں کی شرط لگا دی بھئی شریعت نے۔ کتنے گواہ ہونے چاہییں؟ چار گواہ ہونے چاہییں بھئی، چار گواہ۔ مقصد کیا ہے؟ انسان کو سزا سے بچانا، یہ اللہ کی رحمت اور شفقت ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو چار گواہ ہوں، چار گواہ، اور پھر مزید اس کی جب انسان شرائط پڑھتا ہے کہ زنا کے لیے گواہ کس طرح کے چاہییں اور وہ کس طرح وہ گواہی دیں گے وغیرہ، انسان حیران رہ جاتا ہے کہ شریعت کی کس قدر کوشش ہے کہ انسان سے اس سخت ترین سزا کو کیا کر دیا جائے؟ ٹال دیا جائے، اس کی جان بچ جائے بھئی، جان بچ جائے۔ تو سزاؤں کی بنیاد کس پر ہے؟ دور کرنے پر ہے کہ ان کو کسی طرح ٹال دیا جائے، دور کر دیا جائے۔ وَإِمْكَانُ التَّدَاخُلِ عِنْدَ اتِّحَادِ الْمَجْلِسِ، بھئی متن میں آیا تھا کہ ایک مجلس میں کئی دفعہ آیت سجدہ تلاوت کرے گا تو پھر ایک ہی سجدہ اس پر واجب ہو گا، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِمْكَانُ التَّدَاخُلِ عِنْدَ اتِّحَادِ الْمَجْلِسِ اور تداخل کا امکان، یعنی تداخل کا ممکن ہونا مجلس کے متحد ہونے کے وقت ہی ہو گا لِكَوْنِهِ جَامِعًا لِلْمُتَفَرِّقَاتِ اس لیے کیونکہ مجلس جو ہے متفرق چیزوں کو جمع کرنے والی ہے۔ مجلس کیا کرنے والی ہے؟ متفرق چیزوں کو جمع کرنے والی ہے، لہٰذا اتحادِ مجلس ضروری ہے۔ مجلس ایک ہو گی تو وہ جتنی دفعہ بھی آیت سجدہ کو پڑھے گا، تداخل ہو گا اور ایک ہی سجدہ واجب ہو گا۔ اور مجلس بدلے گی تو پھر تداخل بھی نہیں ہو گا، پھر الگ الگ سجدہ کرنا پڑے گا کیونکہ مجلس متفرق چیزوں کو جمع کرنے والی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے بھئی، آپ نے مسئلہ پڑھا ہے کہ ایجاب اور ایک ہے قبول بیع کرتے ہوئے یا کوئی عقد وغیرہ، ایجاب اور قبول کا اسی مجلس میں ہونا ضروری ہے، اسی مجلس۔ تو دیکھو مجلس نے کیا کیا؟ متفرق چیزوں کو جمع کر دیا، اکٹھا کر دیا، ایجاب کے ساتھ قبول کو ملا دیا ورنہ وہ آپس میں نہ ملتے بھئی۔ نیز اسی طرح آپ نے پڑھا ہے کہ یہ زنا وغیرہ جیسے چار گواہوں کے ذریعے زنا ثابت کیا جا سکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی خود اقرار کر لیتا ہے آ کر تو اس کے اقرار سے بھی کیا ثابت ہو جائے گا؟ زنا ثابت ہو جائے گا، لیکن اس میں بھی، اس میں بھی ضروری ہے کہ جیسے چار گواہ ضروری تھے وہ چار مختلف مجلسوں میں اقرار کرے، صرف ایک مجلس میں آتا ہے، کھڑا ہوتا ہے اور چار دفعہ کہہ دیتا ہے کہ میں اقرار کرتا ہوں لیکن یہ چاروں ان میں تداخل ہو جائے گا اور ایک ہی اقرار شمار ہو گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھیے یہاں پر بھی وہی رحمت والا پہلو ہے بھئی۔ لِكَوْنِهِ جَامِعًا لِلْمُتَفَرِّقَاتِ اس لیے کیونکہ مجلس جو ہے وہ متفرق چیزوں کو جمع کرنے والی ہے فَإِذَا اخْتَلَفَ عَادَ الْحُكْمُ إِلَى الْأَصْلِ پس جب مجلس مختلف ہو گئی تو حکم اپنے اصل کی طرف لوٹ جائے گا، اور اصل تو کیا ہے؟ کہ جتنی دفعہ تلاوت کا تکرار ہو اتنی دفعہ وجوب کا بھی تکرار، اتنے ہی سجدے بھی واجب ہوں۔ وَلَا يَخْتَلِفُ بِمُجَرَّدِ الْقِيَامِ اور مجلس بدلتی نہیں ہے صرف کھڑے ہونے سے۔ صرف کھڑا ہو بھئی، ایک آدمی تلاوت کر رہا ہے، ایک جگہ بیٹھا ہوا ہے، ایک ہی آیت سجدہ کو بار بار پڑھ رہا ہے، اسی مقام پر وہ کھڑا ہو گیا تو بھی مجلس نہیں بدلی، بلکہ ایک دو قدم چلا پھر بھی مجلس نہیں بدلی، مجلس وہی ہے، تو صرف کھڑے ہونے کی وجہ سے مجلس نہیں بدلتی۔ کہتے ہیں: وَلَا يَخْتَلِفُ بِمُجَرَّدِ الْقِيَامِ اور مجلس بدلتی نہیں ہے صرف کھڑے ہونے سے، بِخِلَافِ جی آگے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں اعتراض کا۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ کسی عورت کو اگر خاوند اختیار دے دے طلاق کا کہ تو کیا کر سکتی ہے، اپنے آپ کو، تجھے میں اختیار دیتا ہوں، اپنے آپ کو طلاق دینا چاہتی ہے میری جانب سے تو تجھے اختیار ہے، اختیار ہے، تو فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ عورت اگر بیٹھی ہوئی تھی اور کھڑی ہو گئی تو بس اس کا اختیار ختم ہو گیا، اس کا اختیار مجلس تک تھا لیکن کھڑی ہوئی تو اختیار کیا ہوا؟ ختم۔ معلوم ہوا کھڑے ہونے سے مجلس بدل جاتی ہے اور آپ ہمیں کیا بتلا رہے ہیں؟ وَلَا يَخْتَلِفُ بِمُجَرَّدِ الْقِيَامِ صرف کھڑے ہونے سے مجلس بدلتی نہیں، لیکن اس مسئلے سے کیا معلوم ہو رہا ہے کہ کھڑے ہونے سے مجلس بدل جاتی ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں، وہاں وہ کھڑے ہونے سے مجلس بدلی ہو اور اس وجہ سے کہیں اختیار ختم ہو گیا اس عورت کا، نہیں نہیں، وہاں مجلس نہیں بدلی بلکہ اس کا کھڑا ہونا اعراض پر دلالت کرتا ہے، کس چیز پر؟ اعراض پر۔ خاوند اسے کہہ رہا ہے تجھے اختیار ہے، اپنے آپ کو طلاق دینا چاہتی ہے تو طلاق دے دے، اور وہ عورت کھڑی ہو گئی، معلوم ہوا اس کو یہ بات ناپسند تھی، اس نے اپنے اختیار کو استعمال نہیں کیا، کھڑی ہو گئی اور یہ کھڑے ہونا کس چیز پر دلالت کر رہا ہے؟ اعراض کہ وہ اس بات سے منہ موڑ رہی ہے، اس کو یہ بات پسند نہیں، تو یہ کھڑا ہونا اعراض پر دلالت کر رہا ہے، اس وجہ سے اس کا اختیار ختم ہو جائے گا ورنہ مجلس ابھی بھی وہی ہے بھئی۔ بِخِلَافِ الْمُخَيَّرَةِ بخلاف اس عورت کے جس کو اختیار دیا گیا لِأَنَّهُ دَلِيلُ الْإِعْرَاضِ اس لیے کیونکہ اس کا کھڑے ہونا اعراض کی دلیل ہے وَهُوَ الْمُبْطِلُ هُنَالِكَ اور وہی باطل کرنے والا ہے، یعنی اختیار کو، هُنَالِكَ اس جگہ پر، مجلس نہیں بدلی بلکہ یہ اعراض اس کے اختیار کو باطل کر رہا ہے۔ وَفِي تَسْدِيَةِ الثَّوْبِ يَتَكَرَّرُ الْوُجُوبُ، تسدیہ کہتے ہیں جو قدیم زمانے میں وہ کپڑے ہاتھ سے بنے جاتے تھے اور وہ دھاگے وغیرہ ان کو وہ سیدھا کرتے تھے اور تو وہ جو تانوں کو سیدھا کرتے ہوئے وہ جو کپڑا بنانے والا اس کو سیدھا کرتا وہ دھاگوں کو، کپڑے کے اندر جو دھاگے ہیں آپ نے دیکھے ہوں گے، ایک دھاگہ لمبائی کے رخ میں جا رہا ہے تو دوسرا چوڑائی میں، تو یہ جو لمبائی میں جا رہا ہے اس کو تانا کہتے ہیں اور جو چوڑائی میں ہے اس کو بانا، تو یہ جو تانا تنتے اس کو تسدیہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تسدیہ۔ تو یہ جو دھاگہ سیدھا کرتے ہوئے وہ ساتھ چل رہا ہے ایک شخص اور وہ ساتھ ساتھ تلاوت بھی کر رہا ہے آیت سجدہ کی، تو کیا یہ مجلس اس کو ایک شمار کریں گے؟ وہ تو وہیں پر آ رہا ہے اور جا رہا ہے اور پڑھتا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، وہ چلتا جا رہا ہے، مجلس بدلتی جا رہی ہے، جتنی دفعہ پڑھے گا اتنی ہی اتنے ہی سجدے اس پر آئیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي تَسْدِيَةِ الثَّوْبِ يَتَكَرَّرُ الْوُجُوبُ اور کپڑے کے تانا سیدھا کرنے میں يَتَكَرَّرُ الْوُجُوبُ وجوب مقرر ہو گا، وَفِي الْمُنْتَقِلِ مِنْ غُصْنٍ إِلَى غُصْنٍ كَذَلِكَ اور وہ جو منتقل ہونے والا ہے ایک شاخ سے دوسری شاخ کی طرف اس میں بھی اسی طرح ہو گا فِي الْأَصَحِّ اس قول کے مطابق جو زیادہ صحیح ہے۔ بھئی، ایک شخص ہے اس نے درخت کی ایک شاخ پر تلاوت کی اور پھر اس شاخ سے جب دوسری شاخ پر منتقل ہوا پھر اس نے وہی آیت تلاوت کی اور پھر تیسری شاخ پر وہی آیت تلاوت کی تو کیا ایک سجدہ آئے گا یا کئی سجدے آئیں گے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، مجلس بدلتی جا رہی ہے تو لہٰذا جتنی دفعہ تلاوت کرے گا اتنے ہی سجدے آئیں گے۔ وَكَذَا فِي الدِّيَاسَةِ لِلِاحْتِيَاطِ اور اسی طرح غلہ گاہنے میں بھی بوجہ احتیاط کے۔ دیاست اس کو کہتے ہیں بھئی، آج کل تو مشینیں آ گئیں، ایک ہی دن کے اندر کھیت کٹتا بھی ہے، دانے بھی بھس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں، پیک بھی ہو جاتے ہیں اور منڈی میں بھی پہنچ جاتے ہیں، حالانکہ قدیم زمانے میں یہ بڑا لمبا عمل تھا اور بڑا مشکل، کئی کئی دن اس پر لگ جاتے تھے بھئی۔ وہ کیا کرتے تھے؟ سب سے پہلے سارے کھیت کو کاٹتے اور وہ اس کو اکٹھا کرتے، پھر اس کے بعد وہ جو خوشے ہوتے ان ساروں کو ایک جگہ پر سخت زمین پر ڈال دیتے بھئی، وہ جو مثلاً گندم کے جو خوشے ہوتے، اب وہ دانے ابھی خوشوں کے اندر ہوتے، ان کو ڈال دیتے وہاں اور پھر بیل وغیرہ جتنے بیل ہوتے، دو یا تین جتنے بیل لاتے اور پھر ان بیلوں کو ان خوشوں کے اوپر چلاتے، وہ خوشے تو خشک تو تھے ہی، سخت زمین پر بھی پڑے ہیں، اب جب بیلوں کی قدموں تلے روندے جاتے خوب اچھی طرح، سارا دن ان بیلوں کو ان پر چلایا جاتا سارا دن بھئی، تو وہ دانے اب خوشوں سے نکل آتے، دانے خوشوں سے نکل آتے۔ تو یہ جو یہ جو بیل وغیرہ کو دانوں پر چلایا جاتا اور وہ ان کو قدموں سے روندتے اور دانوں کو بھس سے علیحدہ کرتے، خوشوں سے نکالتے تھے، اس کو کہتے تھے دیاسہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دیاسہ، غلے کو گاہنا، یعنی وہ جانور کا اس کو اپنے قدموں تلے روندنا۔ تو اس میں کوئی شخص کیا کرتا ہے؟ اس میں تلاوت کرتا جا رہا ہے، بیلوں کے ساتھ ساتھ چکر بھی لگا رہا ہے، ان کو مسلسل چلاتے رہتے بھئی، تو وہ شخص ان کو چلا رہا ہے، ان کے ساتھ ساتھ چکر لگا رہا ہے اور ساتھ ساتھ آیت سجدہ بھی تلاوت کر رہا ہے، تو اس میں کیا ایک سجدہ آئے گا یا کئی؟ کہتے ہیں بھئی مجلس بدلتی جا رہی ہے تو اس میں بھی بطورِ احتیاط کے کیا کرے گا؟ اتنے ہی سجدے آئیں گے جتنی دفعہ وہ آیت سجدہ کو تلاوت کرے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو پھر وہ دانے علیحدہ ہو جاتے، پھر اس کے بعد بھئی لیکن ابھی بھی دانے اور بھس اکٹھے پڑے ہوئے ہیں، نکل تو آئے ہیں خوشوں میں سے لیکن بھس کے ساتھ ملے ہوئے زمین پر پڑے ہیں، پھر کیا کرتے تھے؟ پھر وہ بیلچہ نما وہ چیز ہوتی اس کے ذریعے ان کو اٹھاتے اور ایک طرف جگہ کی طرف ان کو ہوا میں زور سے اچھالتے جاتے، تو وہ ہوا کی وجہ سے جو بھس ہوتا وہ تھوڑا سا آگے نکل جاتا یا راستے میں ہی رک جاتا کیونکہ بھس تو ہلکا سا ہے وہ تو دور نہیں جائے گا، لیکن دانہ وزنی ہوتا وہ اس جگہ پر جا کر گرتے، تو اس طرح پھر وہ سارے دانوں کو کیا کر لیتے؟ علیحدہ کر لیتے تھے بھئی، تو بڑا لمبا عمل ہوتا تھا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا فِي الدِّيَاسَةِ اور اسی طرح حکم ہے غلہ گاہنے میں بھی، یعنی اس میں بھی کئی سجدے آئیں گے، لِلِاحْتِيَاطِ بطورِ احتیاط کے، کیونکہ احناف ہمیشہ کس صورت کو اختیار کرتے ہیں جس میں احتیاط زیادہ ہو اور یہ عبادت کا مسئلہ ہے، تو احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ جتنی دفعہ آیت سجدہ تلاوت کی ہے اتنے ہی سجدے کر لے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔